بیٹے کی پیدائش: حقیقت یا فسانہ



بیٹے کی پیدائش: حقیقت یا فسانہ
جینیاتی اعتبار سے انسانی جسم میں کروموسوم (Chromosomes) کے 23 جوڑے ہوتے ہیں یعنی مجموعی طور پر 46 کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے 23 کروموسوم ماں کی طرف سے اور 23 باپ کی طرف سے بچے کو وراثت میں ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے بچے اپنے والدین کی شکل صورت اور عادات و مزاج وغیرہ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین نے کروموسوم کے جوڑوں کو اُن کی جسامت کے اعتبار سے نمبر دیے ہوئے ہیں جو 1 سے 22 تک ہیں‘ صرف 23 ویں جوڑے کو ایسا کوئی نمبر نہیں دیا گیا کیوں کہ اس کا تعلق بچے کی جنس کے تعین سے ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کروموسومز کو دیے جانے والے نمبرز اُن کی جسامت کے اعتبار سے دیے جاتے ہیں یعنی کروموسوم نمبر1 جسامت میں چھوٹا ہوتا ہے اس کے بعد چلتے چلتے کروموسوم نمبر22 بڑا ہوتا ہے۔ 23 ویں جوڑے کو کوئی نمبر نہیں دیا گیا بلکہ اس میں شامل کروموسوم کو x اور Y کروموسوم کہا جاتا ہے۔ انہیں ایکس اور وائی کروموسوم کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی ظاہری ساخت X اور Y سے مشابہ ہوتی ہے۔
ان میں سے ۲۲ جوڑے خاندانی وموروثی کردار‘ امراض و خواص وغیرہ کے حا مل ہوتے ہیں جب کہ ۳۲واں جوڑا جنس سے متعلق ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے جنس کا تعین ہوتا ہے اس لیے اسے صنفی کروموسوم (Sex Chromosomes) بھی کہا جاتا ہے۔ مردوں میں یہ ۳۲ واں جوڑا  ایک X   جب کہ دوسرا  Y کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے‘جب کہ عورت میں یہ ۳۲ واں جوڑا XX  پر مشتمل ہوتا ہے۔ (انسانی نشوونما کے دوران انسانی جسم کا ہر خلیہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتا رہتا ہے لیکن ہر خلیہ میں کروموسومز کی تعدا د پر فرق نہیں پڑتا)۔جنسی اختلاط (Intercourse) کے وقت جب مردانہ جرثومے عورت کے بیضہ سے ملتے ہیں تو ان میں ۶۴ کروموسومز پائے جاتے ہیں‘ اگر مردانہ جرثومہ جو بیضہ تک رسائی حاصل کر پاتا ہے‘ X کروموسوم رکھتا ہے تو حمل شدہ بیضہ میں XX  کا جوڑا مکمل ہو گا اور بچہ مادہ (Female) ہو گا۔ کیو نکہ عورت کی طرف سے ہر حال میں X کروموسوم نے ہی ملنا ہے۔ اور اگر مر د کے جرثومے میں ملنے والا کروموسوم Y ہے تو حمل شدہ بیضہ  XY خاصیت کا حامل ہو گا  اور بچہ نر (Male)  پیدا ہو گا۔  باقی کردار کے حامل کروموسومز دونوں ماں اور باپ کی جانب سے موروثی امراض‘ خاندانی خصوصیات‘ کردار‘ شخصیت‘ شکل وصورت‘ جسمانی ساخت اور بچے کا رنگ و نسل وغیر ہ ودیعت کرتے ہیں۔یعنی جب بیضہ اور جرثومہ مل جاتے ہیں تو اسی وقت اس نئی جان کی باقی سار ی نسلی وراثتوں کا بھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کا مکمل پروگرام اسی وقت بن چکا ہوتاہے۔

 

Subscribe for newsletter