موٹاپاایک خطرناک مرض ہے!



موٹاپاایک خطرناک مرض ہے!
موٹاپا واقعی منفی امکانات رکھتا ہے۔ان امکانات کی مسلسل تشہیر نے موٹاپے کے خلاف ایسی فضاء سازگار کر دی ہے کہ لوگ اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے صحت مند طریقے اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں حالانکہ موٹاپے سے فوری نجات محض ایک تشہیری حربہ ہے جو اگر ممکن بھی ہو تو انتہائی خطرناک امکانات رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں جو سنجیدگی کے ساتھ موٹاپے سے نجات چاہتے ہیں اس مقصد کے لیے ڈائٹنگ بھی کرتے ہیں مگر اپنے مقصد میں ناکام رہتے ہیں اور مایوس ہو کر کوشش چھوڑ دیتے ہیں۔ ؒلوگ کوشش کرنے کے باوجود موٹاپے سے نجات حاصل کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں؟ اس حوالے سے لگ بھگ تین عشروں کے (مختلف اوقات میں) تحقیقی مطالعے کم و بیش ایک سی رہنمائی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غذائی عادات میں تبدیلی کے ذریعے وزن میں کمی مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل کوششوں کے بعد وزن میں کمی کرنے والے یہ کمی برقرار رکھنے میں کامباب نہیں رہتے ہیں بمشکل دو فیصد افراد ہی وزن میں ہونے والی کمی کا تسلسل برقرار رکھ پاتے ہیں۔یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ وزن کی کمی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے لیکن کمی کے بعد اس کو برقرار رکھنا اس سے بھی اہم بات ہے۔  لوگوں کے عمومی رجحان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ان کی بڑی تعداد اپنے موجودہ وزن کو (چاہے کتنا ہی
اضافی کیوں نہ ہو) برقرار رکھیں‘ مزید بڑھنے نہ دیں تو بہت سے سنگین امکانات سے قدرے محفوظ رہ سکتے ہیں۔


وزن میں قابل رشک کمی کے بعد کچھ عرصہ بعد بے تحاشہ اضافہ بھی ایک عام بات ہے ایسا کیوں ہوتاہے؟ اس کا جواب آسان نہیں ہے۔تاہم یہ کہا
جا سکتا ہے کہ لوگوں کی تساہل پسندی‘ کمزور قوتِ ارادی اور اپنی ذات سے حقیقی دل چسپی کا فقدان اس کی بنیاد ی وجوہ ہیں حالانکہ انسان کو اپنی تندرستی اور صحت مند زندگی ہی سب سے زیادہ عزیز ہو نی چاہیے۔ اپنی جگہ یہ بھی حققیت ہے کہ اپنے موٹاپے کو تسلیم نہ کرنا معاشرے کا عمومی رجحان ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد اپنے قد کی منا سبت سے اپنے وزن کی اہمیت نہیں دیتی۔ لوگ روزانہ آئینہ دیکھنے کے باوجود اپنے فربہ ہوتے بدن کو موٹا ماننے پہ تیار نہیں ہوتے۔موٹاپے کا اندازہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ طبی چارٹس یا جدول اور دیگر طریقوں (جو کہ کتاب میں دیے گئے ہیں)کے ذریعے اپنا معیاری وزن معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ درزی کو کپڑوں کا ناپ دیتے ہوئے اپنے ناپ میں کمی بیشی کو نوٹ کریں۔ اور اندازہ کریں کہ پہلے اور اب آپ کے ناپ میں کتنا فرق آ یا ہے‘ کہا جاتا ہے کہ موٹاپے کا احساس کسی کلینک میں نہیں بلکہ درزی کو ناپ دیتے ہوئے ہوتا ہے۔


بس اتنا یاد رکھیں کہ موٹاپے کو نظر انداز کرنابہت بڑی حماقت ہے جو آنے والے دنوں میں سنگین امکانات رکھتی ہے۔ موٹاپے کو نظرا نداز کرنے سے
خطرات کسی صورت کم نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ اپنی ذات سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اپنی زندگی سے پیار کرتے ہیں تو پوری دیانتداری سے فیصلہ کریں کہ زائد وزن سے نجات کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے۔

سڈول جسم نہ صرف خوبصورت نظر آتا ہے‘بلکہ صحت مند بھی ہوتا ہے‘اس لیے جسم کو سڈول رکھنے کی کوششیں قابل تحسین ہیں‘لیکن ایک نقطہ یاد رکھیں کہ کوئی ایسا طریقہ نہ اپنائیں جس سے آپکی صحت خراب ہونے کااندیشہ ہو۔

ہمارے معاشرے میں لوگوں کی اکثریت صحت کے اصولوں‘غذا‘پرہیز‘دوا کے صحیح استعمال‘ورزش اور نفسیات جیسی بنیادی حقیقتوں کا کوئی شعور نہیں رکھتی‘بعض لوگ محض موٹے جسم کو صحت تصور کرتے ہیں تو بعض کے نزدیک زیادہ کھا نا اور سینکڑوں بیٹھکیں لگانا ہی اعلیٰ صحت کی علامت ہے۔اس کے بر عکس ایک ماڈرن طبقہ ہے جو اسمارٹ ہونے کے خبط میں مبتلا ہے۔انہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو خود پر حرام کر لیا ہے۔اگر کوئی شخص اپنی خوراک کم کر دے تو وہ دبلا تو ہو جائے گا‘لیکن ساتھ ہی ساتھ اسکی صحت بھی برباد ہو جائے گی۔وزن کم کرنے کے لیے ایسے محفوظ طریقے پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے‘جس سے جسم کو مطلوبہ غذائی اجزا بھی ملتے رہیں اورساتھ ساتھ زائد چربی بھی اتر جائے۔اس کتاب میں آ پ کی رہنمائی کی گئی ہے‘کہ جس پر آپ عمل کرکے اپنی صحت کو قابلِ رشک بنا سکتے ہیں‘اگر آ پ موٹے ہیں تو موٹاپا زائل کر سکتے ہیں‘اور اگر آپُ نارمل ہیں تو اپنی تندرستی) Fitness (کو زیادہ عرصہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ موٹاپا ایک خطرناک مرض ہے‘جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا سب بیماریوں کی ماں ہے‘اسطرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ موٹاپا سب بیماریوں کا باپ ہے۔

موٹاپے کے سدِباب اور مکمل و دیرپا علاج کے لیے ہمارے ایکسپرٹ متعدد کتب کے مصنف ڈاکٹر جاوید اقبال سے علاج اور ڈائٹ پلان کے لیے آج سے رابطہ کریں۔

Subscribe for newsletter